22 C
Lahore
Thursday, October 22, 2020
ISLAM

ISLAM

عیدالفطر اور اس کے مسائل

0

عیدالفطر اور اس کے مساٸل

دوہجری میں روزہ فرض ہوا، صدقہ الفطر بھی اسی سال واجب ہوا اور اسی سال پہلی مرتبہ عیدالفطر کی نماز ادا کی گئی ۔ نماز عید مسلمانوں پر واجب ہے ، بغیر عذر کے اس سے پیچھے رہ جانے والا گنہگار ہے ۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے : فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ(الكوثر:2)

ترجمہ:اپنے رب كے ليے نماز ادا كرو، اور قربانى كرو.

وجوب کی اصل دلیل صحیحین کی اس حدیث سے ملتی ہے جس میں نبی ﷺ نے حائضہ عورت تک کو عیدگاہ جانے کا حکم دیا ہے۔

یہی موقف شیخ الاسلام ابن تیمیہ،شیخ البانی، شیخ ابن باز، شیخ الحدیث عبیداللہ مبارک پوری وغیرہم کا ہے ۔

عید کا چاند:

رمضان کی انتیسویں تاریخ کو چاند دیکھنے کا اہتمام کرنا چاہئے ۔ واضح رہے کہ رمضان کے چاند کی رویت کے لئے ایک عادل مسلمان کی گواہی کافی ہے مگر رمضان کے علاوہ بقیہ تمام مہینوں کے لئے دوعادل مسلمان کی گواہی ضروری ہے ۔ جب چاند نظر آئے تو یہ دعا پڑھیں :

«اَللّٰھُمَّ اؑھلَّه عَلَیْنَا بِالْأمْنِ وَالْإیْمَانِ وَالسَّلا مة وَالْإسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّك اللّه»(السلسلہ الصحیحہ: 1816)

فطرانے کی ادائیگی :

عید کا نکلنے سے فطرے کا واجبی وقت شروع ہوجاتا ہےلہذا عید کی نماز سے پہلے پہلے فی کس ڈھائی کلو اناج گھر کے چھوٹے بڑے تمام لوگوں کی طرف سے نکال کے فقراء و مساکین کو دیدیں ۔

عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

أنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ فرض زكاةَ الفطرِ من رمضانَ على كلِّ نفسٍ من المسلِمين ، حرٍّ أو عبدٍ . أو رجلٍ أو امرأةٍ . صغيرٍ أو كبيرٍ . صاعًا من تمرٍ أو صاعًا من شعيرٍ .(صحيح مسلم : 984)

ترجمہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے صدقہ فطرکو فرض قرار دیا ہے ایک صاع جو یا کھجور کا، جو ہر آزاد ،غلام ، مرد وعورت اور چھوٹے بڑے مسلمان پر واجب ہے۔

عید کی شب عبادت :

عید کی رات عبادت کرنے سے متعلق ایک روایت بیان کی جاتی ہے ۔ روایت یہ ہے :

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضي الله عنه عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ قَامَ لَيْلَتَيْ الْعِيدَيْنِ مُحْتَسِبًا لِلَّهِ لَمْ يَمُتْ قَلْبُهُ يَوْمَ تَمُوتُ الْقُلُوبُ۔(ضعيف ابن ماجه:353)

ترجمہ: ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا جس نے عيد الفطر اور عيد الاضحى كى دونوں راتوں كو اجروثواب كى نيت سے اللہ تعالى كے ليے قيام كيا اس كا اس دن دل مردہ نہيں ہو گا جس دن دل مرجائيں گے۔

یہ روایت گھڑی ہوئی ہے ، اس لئے اس سے دلیل نہیں پکڑی جائے گی ۔ اس روایت کو شیخ البانی نے ضعیف ابن ماجہ میں موضوع کہا ہے ، سلسلہ ضعیفہ میں سخت ضعیف کہا ہے ۔ اور دیگر محدثین نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

گویا عید کی رات عبادت کرنے سے متعلق فضیلت والی کوئی روایت ثابت نہیں ہے ۔ اس کا معنی ہرگز یہ نہ لیا جائے کہ اس دن قیام نہیں کیا جاسکتا ہے ، جس طرح دیگر راتوں میں قیام کرنے کا ثواب ہے اس عموم میں یہ رات بھی داخل ہے ۔

تکبیر:

چاند رات سورج ڈوبنے سے لیکر نماز عید تک تکبیر پڑھنا سنت ہے ، یعنی شب عید سے لیکر خطبہ ختم ہونے تک تکبیرپڑھنا چاہئے ۔گھر میں ہو، بازار میں ہو یا مسجد میں ۔مردحضرات بآواز بلند پڑھیں اور خواتین پست آواز میں ۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے :

وَلِتُكْمِلُواْ الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ۔(البقرة:185)

ترجمہ: وہ چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالی کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اوراس کا شکر کرو۔

تکبیرات کے ثابت شدہ الفاظ :

(1)اللهُ أكبرُ اللهُ أكبرُ لا إلهَ إلا اللهُ واللهُ أكبرُ اللهُ أكبرُ وللهِ الحمدُ۔

اس کی سند کو علامہ البانی نے صحیح کہا ہے ۔( إرواء الغليل:3/125)

(2) اللهُ أكبرُ كبيرًا اللهُ أكبرُ كبيرًا اللهُ أكبرُ وأجلُّ اللهُ أكبرُ على ما هَدَانا۔

اس کی سند کو علامہ البانی نے صحیح کہا ہے ۔( إرواء الغليل3/126)

(3) اللَّهُ أَكبرُ كبيرًا، اللَّهُ أَكبرُ كبيرًا، اللَّهُ أَكبرُ كبيرًا۔

اس کو شیخ ابن تیمیہ نے ثابت کہا ہے ۔ ( مجموع الفتاوى:23/326)

(4) اللهُ أكبرُ اللهُ أكبرُ ، اللهُ أكبرُ كبيرًا۔

حافظ ابن حجر نے اسے تکبیرکا سب سے صحیح صیغہ جو ثابت ہے کہا ہے ۔(فتح الباري :2/462) .

(5) اللهُ أكبرُ كبيرًا . والحمدُ لله كثيرًا . وسبحان اللهِ بكرةً وأصيلًا۔(صحيح مسلم:601)

یہ ایک عام تکبیر ہے مگر اس کے پڑھنے سے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں ۔

تکبیر میں یہ دھیان رکھنا چاہئے کہ اجتماعی طور پر تکبیر کہنا یعنی سب یک آواز ہوکر بدعت ہے ۔

عید کا روزہ :

عید کے دن روزہ رکھنا منع ہے۔ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

نهى عن صيامِ يومَينِ : يومِ الفطرِ ويومِ النَّحرِ .(صحيح مسلم:1138)

ترجمہ : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں عید الفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایاہے۔

غسل، لباس اور خوشبو :

عید کے دن غسل کرنا مستحب ہے ۔ بہتر ہے فجر کی نماز کے بعد غسل کرے، اگرکسی وجہ سے اس سے پہلے غسل کرلیا تو بھی کوئی حرج نہیں ۔

اسی طرح عمدہ یا صاف ستھرا لباس لگانا چاہئےجیساکہ نبی ﷺ سے عید کے دن خوبصورت چادر اوڑھنے کا ذکر ملتاہے اور خوشبو نبی ﷺکو بہت پسند تھی اس لئے ہمیں بھی اسے پسند کرنا چاہئے۔

عید کے دن کھانا:

کھجوریں کھاکر عید گاہ جانا مسنون ہے ۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم لا يَغْدُو يوْمَ الفِطْرِ حتَّى يَأْكُلَ تَمَراتٍ(صحيح البخاري:953)

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کھجوریں تناول فرمائے بغیر نہ نکلتے۔

طاق کھجوریں کھاکر عید گاہ جانا چاہئے جیساکہ دوسری روایات سے پتہ چلتا ہے اور کھجور میسر نہ ہو تو جو بھی ملے کھالے ۔

عیدگاہ پیدل جانا:

پاپیادہ عیدگاہ جانا چاہئے اور اسی طرح واپس آنا چاہئے ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

كان رسولُ اللهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ يخرجُ إلى العيدِ ماشيًا ويرجعُ ماشيًا(صحيح ابن ماجه:1078)

ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ پیدل جاتے پیدل ہی واپس تشریف لاتے ۔

ضرورتمند آدمی سواری پہ سوار ہوسکتا ہے ۔

واپس لوٹتے ہوئے راستہ بدل دینا چاہئے ۔ جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

كان النبيُّ صلى الله عليه وسلم ، إذا كان يومُ عيدٍ ، خالف الطريقَ.(صحيح البخاري:986)

ترجمہ:عيد كے دن رسول كريم صلى اللہ عليہ سلم مختلف راستے پر چلتے۔

راستے کی مخالفت کی حکمت سے متعلق بہت سارے اقوال ملتے ہیں ، سب سے اچھا جواب شیخ ابن عثیمین کا ہے کہ اس کی حکمت نبی ﷺ کی اتباع اور پیروی ہے ۔

عیدگاہ:

عید کی نماز صحرا میں ادا کی جائے البتہ ضرورت کے تحت مسجد میں بھی ادا کی جاسکتی ہےجیساکہ بارش کی وجہ سے نبی ﷺ

نے مسجد میں عید کی نماز پڑھی ہے ۔

عید کی نماز اور خواتین:

نبی ﷺ نے عورتوں کو عید کی نماز پڑھنے کا حکم دیا لہذا خواتین کو نماز عید میں شریک ہونا چاہئےخواہ بوڑھی ہو جوان، شادی شدہ ہو یا غیرشادی شدہ اور بالغہ ہو یا نابالغہ یہاں تک آپ ﷺ نے حائضہ کو بھی عیدگاہ جانے کا حکم دیا تاکہ وہ مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوسکے ۔

عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْها قَالَتْ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي الْفِطْرِ وَالأَضْحَى الْعَوَاتِقَ وَالْحُيَّضَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الصَّلاةَ وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِحْدَانَا لا يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ . قَالَ : لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا .(صحیح البخاري :324وصحیح مسلم :890)

ترجمہ: حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ عورتوں کو عید الفطر اور عید الاضحی میں عید گاہ لے جائیں جوان لڑکیوں ،حیض والی عورتوں اور پردہ نشین خواتین کو بھی ، ہاں حیض والی عورتیں نماز سے الگ رہیں لیکن وہ اخیر میں مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں ،میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی ایک کے پاس جلباب نہ ہوتو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی بہن اس کو اپنی چادر اڑھادے۔

اس لئے عید کے دن خواتین کے لئے افضل ہے کہ وہ عیدگاہ جائیں ۔ ذمہ داروں کو چاہئے کہ خواتین کے لئے الگ سے خیمے کا انتظام کرے تاکہ خواتین بھی مردوں کے ساتھ عید کی نماز پڑھ سکے ۔ خواتین کا الگ سے عید کی نماز ادا کرنا مشروع نہیں ہے ۔

نماز عید کا طریقہ:

٭عیدگاہ میں عید کی نماز سے پہلے یا اس کے بعد کوئی نماز نہیں ہے ، اسی طرح عید کی نماز کے لئے اذان و اقامت بھی نہیں ہے ۔

٭اگر مسجد میں عید کی نماز ادا کرے تو تحیۃ المسجد ادا کرے ۔

٭ نماز عید صرف دو رکعت ہے ۔ پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں پڑھے ۔

٭تکبیرات عید پہ رفع یدین کرنا چاہئے حدیث سے ثابت ہے ۔

خطبہ عید:

نماز کے بعد امام مرد و خواتین کو وعظ و نصیحت کرے ۔ خطبہ صحیح قول کی روشنی میں سنت ہے، واجب نہیں ہے ۔ عید کی نماز

کےبعد نبی ﷺ نے فرمایا تھا: مَن أحبَّ أن ينصرفَ فلينصرِفْ ، ومن أحبَّ أن يُقيمَ للخطبةِ فليُقِمْ۔(صحيح النسائي:1570)

ترجمہ: جو لوٹنا پسند کرے وہ لوٹ جائے اور جو خطبہ کے لئے رکنا چاہے وہ رک جائے۔

٭ جمعہ کی طرح اس کا سننا واجب نہیں لیکن وعظ ونصیحت کو سنے بغیر جانا بھی نہیں چاہئے۔

٭ عید کا ایک ہی خطبہ حدیث سے ثابت ہے ۔

٭ خطبہ کھڑے ہوکر دینا ہے اور بغیر منبر کے دینا ہے ۔

٭ خطبہ کے بعد یا نماز عید کے بعد اجتماعی دعا کا ثبوت نہیں ملتا لہذا اس نئی ایجاد سے بچنا چاہئے۔
جمعہ کے دن عید کی نماز:

اگر جمعہ کے دن عید کی نماز پڑجائے تو اس دن جمعہ کی نمازبھی پڑھ سکتے ہیں یاپھر ظہر ہی ادا کرنا کافی ہوگا۔

اجتمعَ عيدانِ على عَهدِ رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ فصلَّى بالنَّاسِ ثمَّ قالَ من شاءَ أن يأتيَ الجمعةَ فليأتِها ومن شاءَ أن يتخلَّفَ فليتخلَّف(صحيح ابن ماجه:1091)

ترجمہ : ابن عمر رضي الله عنهما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک ساتھ دو عید پڑگئیں (یعنی عید اور جمعہ)، تو آپ نے عید کی نماز پڑھانے کے فرمایا کہ: جو شخص جمعہ پڑھنا چاہے توپڑھ لے، اور جو نہیں پڑھنا چاہتا ہے تو وہ نہ پڑھے۔

نمازعید اور قضا:

٭ اگر کسی کو ایک رکعت مل جائے تو اس نے عید کی نماز پالی ،جو آخری رکعت کے سجدہ یا تشہد میں امام کے ساتھ ملے تو وہ عید کی نماز کی طرح نماز ادا کرلے ۔

٭ اگر کسی کی عید کی نماز چھوٹ جائے تو عید کی نماز کی طرح ادا کرلے ، چند لوگ ہوں تو جماعت قائم کرلے ۔جنہوں نے کہا نمازعید کی قضا نہیں صحیح بات نہیں ہے ۔ قضا کا بھی آثار سے ثبوت ملتا ہے ۔ نیز جس اثر سے قضا کی صورت میں چار رکعت پڑھنے کا ذکر ملتا ہے اسے

شیخ البانی نے ارواء الغلیل میں منقطع قرار دیا ہے ۔ قضاکرتے ہوئے دو رکعت ہی ادا کرے اور خطبہ عید چھوڑدے۔

عید کی مبارکبادی:

عید کے دن ایک دوسرے کو بایں الفاظ مبارکبادی دی جائے :تقبل اللہ منا ومنک( اللہ تعالیٰ ہم سب کی عید اور دیگر اعمال صالحہ قبول فرمائے)۔

كان أصحابُ النبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم إذا الْتَقَوْا يومَ العيدِ يقولُ بعضُهم لبعضٍ : تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا ومنكَ۔

جبير بن نفير(تابعی) بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ كرام عيد كے روز جب ايك دوسرے كو ملتے تو ايك دوسرے كو كہتے”تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْك” (اللہ تعالى مجھ اور آپ سے قبول فرمائے).

اس کو شیخ البانی نے صحیح کہا ہے ۔(تمام المنة:354)

حافظ ابن حجر نے اسے حسن کہا ہے (فتح الباری )

عید کے دن معانقہ و مصافحہ:

شيخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے دريافت كيا گيا:نماز عيد كے بعد مصافحہ اور معانقہ كرنے كا حكم كيا ہے ؟

توانہوں نے جواب دیا:ان اشياء ميں كوئى حرج نہيں ، كيونكہ لوگ اسے بطور عبادت اور اللہ تعالى كا قرب سمجھ كر نہيں كرتے، بلكہ لوگ يہ بطور عادت اور عزت و اكرام اور احترام كرتے ہيں ، اور جب تك شريعت ميں كسى عادت كى ممانعت نہ آئے اس ميں اصل اباحت ہى ہے۔ اھـ(مجموع فتاوى ابن عثيمين : 16 / 208- 210 )

عیدکے دن کھیل:

عید کے دن خوشی کے اظہار میں جائز کھیل کا مظاہرہ کرے تو کوئی مضائقہ نہیں ۔عید کے دن حبشہ کے لوگوں کا ڈھالوں اور برچھوں سے کھیلنا ثابت ہے ۔ آپ ﷺ نے بھی اس کھیل کو دیکھا اور ان حبشیوں کو مزید کھیلنے کو کہا۔ یہ حدیث بخاری شریف میں کتاب العید کے تحت مذکور ہے ۔

احسان کا بدلہ احسان

0

10 : سورة يونس آیت نمبر : 26

لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوا الۡحُسۡنٰی وَ زِیَادَۃٌ ؕ وَ لَا یَرۡہَقُ وُجُوۡہَہُمۡ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّۃٌ ؕ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۶﴾

جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے خوبی ہے اور مزید برآں بھی اور ان کے چہروں پر نہ سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت ، یہ لوگ جنت میں رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہاں جس نے نیک اعمال کئے اور بایمان رہا وہاں اسے بھلائیاں اور نیک بدلے ملیں گے ۔

﴿هَلْ جَزَآءُ الإِحْسَـنِ إِلاَّ الإِحْسَـنُ ﴾
احسان کا بدلہ احسان ہے ۔

﴿وَزِيَادَةٌ﴾
ایک ایک نیکی بڑھا چڑھا کر زیادہ ملے گی ایک کے بدلے سات سات سو تک ۔

جنت حور قصور وغیرہ وغیرہ آنکھوں کی طرح طرح کی ٹھنڈک ، دل کی لذت اور ساتھ ہی اللہ عزوجل کے چہرے کی زیارت یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کا لطف و رحم ہے بہت سے سلف خلف صحابہ وغیرہ سے مروی ہے کہ زیادہ سے مراد اللہ عزوجل کا دیدار ہے ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا:

«إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ نَادَى مُنَادٍ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللهِ مَوْعِدًا يُريدُ أَنْ يُنْجِزَكُمُوهُ فَيَقُولُونَ: وَمَا هُوَ؟ أَلَمْ يُثَقِّلْ مَوَازِينَنَا؟ أَلَمْ يُبَيِّضْ وُجُوهَنَا وَيُدْخِلْنَا الْجَنَّــةَ وَيُجِرْنَا مِنَ النَّارِ؟ قَالَ فَيَكْشِفُ لَهُمُ الْحِجَابَ، فَيَنْظُرُونَ إِلَيهِ، فَوَاللهِ مَا أَعْطَاهُمْ اللهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ، وَلَا أَقَرَّ لِأَعْيُنِهِم»

جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے اور اس وقت ایک منادی کرنے والا ندا کرے گا کہ اے جنتیو ! تم سے اللہ کا ایک وعدہ ہوا تھا ، اب وہ بھی پورا ہو نے کو ہے ۔ یہ کہیں گے الحمد اللہ ہمارے میزان بھاری ہوگئے ، ہمارے چہرے نورانی ہوگئے ، ہم جنت بمیں پہنچ گئے ، ہم جہنم سے دور ہوئے ، اب کیا چیز باقی ہے؟ اس وقت حجاب ہٹ جائے گا اور یہ اپنے پاک پرودگار کا دیدار کریں گے ۔ واللہ کسی چیز میں انہیں وہ لذت و سرور نہ حاصل ہوا ہوگا جو دیدار الٰہی میں ہوگا ۔
( مسلم وغیرہ ) اور حدیث میں کہ منادی کہے گا حسنیٰ سے مراد جنت تھی اور زیارت سے مراد دیدار الٰہی تھا ۔

ایک حدیث میں یہ فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی مروی ہے ۔

﴿وَلاَ يَرْهَقُ وُجُوهَهُمْ قَتَرٌ﴾
میدان محشر میں ان کے چہروں پر سیاہی نہ ہوگی۔

﴿وَلاَ ذِلَّةٌ﴾
نہ ذلت ہوگی ۔

جیسے کہ کافروں کے چہروں پر یہ دونوں چیزیں ہوں گی ۔ غرض ظاہر اور باطنی اہانت سے وہ دور ہوں گے ۔

﴿فَوَقَـهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَومِ وَلَقَّـهُمْ نَضْرَةً وَسُرُوراً ﴾
چنانچہ اللہ ایسے لوگوں کو اس دن کے شرسے بچالے گااورانہیں تازگی اور خوشی بخشے گا

چہرے پر نور دل راحتوں سے مسرور ۔

اللہ ہمیں بھی انہیں میں کرے آمین ۔

تفسیر ابن کثیر

صدقہ فطر

0

اعتکاف کے فضائل و مسائل

0

مسنون اعتکاف: فضائل و مسائل
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مفہومِ حدیث: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپکو وفات دے دی۔ پھر آپ کے بعد آپکی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن اعتکاف فرماتی رہیں۔
(صحیح البخاری باب الاعتکاف فی العشر الآولوآخر، ج ۱، ص ۲۷۱)

مفہومِ حدیث: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کی رضا کیلئے ایک دن کا اعتکاف کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسکے اور جہنم کے درمیان تین خندقوں کو آڑ بنادیں گے، ایک خندق کی مسافت آسمان و زمین کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے.
(المعجم الاوسط الطبرانی، ج ۵ ص ۲۷۹ رقم ۷۳۲۶)

فائدہ: سبحان اللہ ایک دن کے اعتکاف کی یہ فضیلت ہے تو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے اعتکاف کی کیا فضیلت ہوگی؟ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو رمضان کی مبارک گھڑیوں میں اعتکاف کرتے ہیں اور مذکورہ فضیلت کے مستحق قرار پاتے ہیں.

مفہومِ حدیث: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ اعتکاف کرنے والا گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اسکی تمام نیکیاں اس طرح لکھی جاتی رہتی ہیں جیسے وہ ان کو خود کرتا رہا ہو.
(سنن ابن ماجہ باب فی الثواب الاعتکاف، ص ۱۲۸)

فائدہ: اس حدیث میں اعتکاف کے فوائد میں سے دو بیان کئے گئے ہیں:
۱- معتکف جتنے دن اعتکاف کرے گا، اتنے دن گناہوں سے بچا رہے گا۔
۲- جو نیکیاں وہ باہر کرتا تھا مثلاً مریض کی عیادت، جنازہ میں شرکت، غرباء کی امداد، علماء کی مجالس میں حاضری وغیرہ، اعتکاف کی حالت میں اگرچہ ان کاموں کو نہیں کرسکتا لیکن اس قسم کے اعمال کا ثواب اسکے نامۂ اعمال میں لکھا جاتا ہے۔

مفہومِ حدیث: جس نے اللہ کی رضا کیلئے ایمان و اخلاص کے ساتھ اعتکاف کیا تو اسکے پچھلے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
(کنزالعمال: کتاب الصوم، الفصل السابع فی الاعتکاف و لیلتہ القدر، ج ۸، ص ۲۴۴)

فائدہ: اس حدیث میں اعتکاف کرنے پر جن گناہوں کی معافی کاوعدہ کیا گیا ہے ان سے مراد گناہ صغیرہ ہیں، کیونکہ گناہ کبیرہ کی معافی کیلئے توبہ شرط ہے۔ اعتکاف کرنے والا جب مبارک ساعات میں اللہ کے حضور گڑگڑاتا ہے، آہ و بکا کرتا ہے اور اپنے سابقہ گناہوں سے سچی توبہ کرتے ہوئے آئندہ نہ کرنے کا عزم کرتا ہے، تو یقینی بات ہے کہ اسکے کبیرہ گناہ بھی معاف ہوجاتے ہیں۔ اس صورت میں حضور اکرم ﷺ کے ارشاد مبارک میں گناہوں سے مراد کبیرہ بھی ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا معتکف کو چاہیئے کہ توبہ و استغفار کا ضرور اہتمام کیا کرے۔

مفہومِ حدیث: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے کہ لیلۃ القدر کو رمضان کی آخری راتوں میں تلاش کیا کرو۔
(صحیح البحاری باب تحریری لیلتہ القدر فی الوتر من العشرالاواخراج، ج ۱، ص ۲۷۰)

فائدہ: اعتکاف سے مقصود لیلۃ القدر کو پانا ہے جس کی فضیلت ہزار مہینوں سے زیادہ ہے۔ نیز اس حدیث میں لیلۃ القدر کو تلاش کرنے کیلئے آخری عشرہ کا اہتمام بتایا گیا ہے جو دیگر احادیث کی رو سے اس عشرہ کی طاق راتیں ہیں۔ لہٰذا بہتر تو یہی ہے کہ اس آخری عشرہ کی ساری راتوں میں بیداری کا اہتمام کرنا چاہیئے ورنہ کم از کم طاق راتوں کو تو ضرور عبادت میں گزارنا چاہیئے۔

چند ضروری مسائل:
رمضان المبارک میں کیا جانے والا اعتکاف “سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ” ہے، یعنی بڑے شہروں کے محلے کی کسی ایک مسجد میں، اگر گاؤں دیہات کی پوری بستی کی کسی ایک مسجد میں کوئی ایک آدمی بھی اعتکاف کرے گا تو سنت سب کی طرف سے ادا ہو جائے گی۔ اگر کوئی بھی اعتکاف نہ کرے تو سب گنہگار ہوں گے۔ اس اعتکاف کے چند مسائل یہ ہیں:

مسئلہ نمبر 1: رمضان کے سنت اعتکاف کا وقت بیسواں روزہ پورا ہونے کے دن غروب آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور عید کا چاند نظر آنے تک رہتا ہے۔ معتکف کو چاہیئے کہ وہ بیسویں دن غروبِ آفتاب سے پہلے اعتکاف والی جگہ پہنچ جائے۔

مسئلہ نمبر 2: جس محلے یا بستی میں اعتکاف کیا گیا ہے، اس محلے اور بستی والوں کی طرف سے سنت ادا ہوجائے گی اگرچہ اعتکاف کرنے والا دوسرے محلے کا ہے۔

مسئلہ نمبر 3: آخری عشرے کے چند دن کا اعتکاف نفل ہے، سنت نہیں۔

مسئلہ نمبر 4: عورتوں کو مسجد کے بجائے اپنے گھر میں اعتکاف کرنا چاہیئے۔

مسئلہ نمبر 5: سنت اعتکاف کی دل میں اتنی نیت کافی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے رمضان کے آخری عشرے کا مسنون اعتکاف کرتا ہوں۔

مسئلہ نمبر 6: کسی شخص کو اجرت دے کر اعتکاف بٹھانا جائز نہیں.

مسئلہ نمبر 7: مسجد میں ایک سے زائد لوگ اعتکاف کریں تو سب کو ثواب ملتا ہے۔

مسئلہ نمبر 8: مسنون اعتکاف کی نیت بیسویں روزے کے غروبِ شمس سے پہلے کرلینی چاہیئے، اگر کوئی شخص وقت پر مسجد میں داخل ہوگیا لیکن اس نے اعتکاف کی نیت نہیں کی اور سورج غروب ہوگیا تو پھر نیت کرنے سے اعتکاف سنت نہیں ہوگا۔

مسئلہ نمبر 9: اعتکافِ مسنون کیلئے مندرجہ ذیل چیزیں ضروری ہیں:
• مسلمان ہونا
• عاقل ہونا
• اعتکاف کی نیت کرنا
• مرد کا مسجد میں اعتکاف کرنا
• مرد اور عورت کا جنابت یعنی غسل واجب ہونے والی حالت سے پاک ہونا۔
(یہ شرط اعتکاف کے جائز ہونے کیلئے ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص حالت جنابت میں اعتکاف شروع کردے تو اعتکاف تو صحیح ہوجائے گا لیکن وہ شخص گنہگار ہوگا)
• عورت کا حیض و نفاس سے خالی ہونا
• روزے سے ہونا (اگر اعتکاف کے دوران کوئی ایک روزہ نہ رکھ سکے یا کسی وجہ سے روزہ ٹوٹ جائے تو مسنون اعتکاف بھی ٹوٹ جائے گا)

مسئلہ نمبر 10: جس شخص کے بدن سے بدبو آتی ہو یا ایسا مرض ہو جسکی وجہ سے لوگ تنگ ہوتے ہوں تو ایسا شخص اعتکاف میں نہ بیٹھے، البتہ اگر بدبو تھوڑی ہو جو خوشبو وغیرہ سے دور ہوجائے اور لوگوں کو تکلیف نہ ہو تو جائز ہے۔

اعتکاف کی حالت میں جائز کام: کھانا پینا(بشرطیکہ مسجد کو گندا نہ کیا جائے)، سونا، ضرورت کی بات کرنا، اپنا یا کسی دوسرے کا نکاح کرنا، کپڑے بدلنا، خوشبو لگانا، تیل لگانا، کنگھی کرنا (بشرطیکہ مسجد کی چٹائی یا قالین خراب نہ ہو)، مسجد میں کسی کا معائنہ کرنا، نسخہ لکھنا یا دوا دینا، لیکن یہ کام اجرت کے بغیر کرے تو جائز ہے وگرنہ مکروہ ہیں، برتن وغیرہ دھونا، ضروریاتِ زندگی کیلئے خرید و فروخت کرنا بشرطیکہ سودا مسجد میں نہ لایا جائے، کیونکہ مسجد کو باقاعدہ تجارت گاہ بنانا جائز نہیں۔ عورت کا اعتکاف کی حالت میں بچوں کو دودھ پلانا۔ معتکف کا اپنی نشست گاہ کے اردگرد چادریں لگانا۔ معتکف کا مسجد میں اپنی جگہ بدلنا۔ بقدر ضرورت بستر، صابن، کھانے پینے کے برتن، ہاتھ دھونے کے برتن اور مطالعہ کیلئے دینی کتب مسجد میں رکھنا۔

ممنوعات و مکروہات: بلاضرورت باتیں کرنا، اعتکاف کی حالت میں فحش یا بےکار اور جھوٹے قصے کہانیوں یا اسلام کے خلاف مضامین پر مشتمل لٹریچر، تصویر دار اخبارات و رسائل یا اخبارات کی جھوٹی خبریں مسجد میں لانا، رکھنا، پڑنا، سننا۔ ضرورت سے زیادہ سامان مسجد میں لاکر بکھیر دینا۔ مسجد کی بجلی، گیس و پانی وغیرہ کا بےجا استعمال کرنا۔ مسجد میں سگریٹ و حقہ پینا۔ اجرت کیساتھ حجامت بنانا و بنوانا، لیکن اگر کسی کو حجامت کی ضرورت ہے اور بغیر معاوضہ کے بنانے والا میسر نہ ہو تو ایسی صورت اختیار کرے کہ حجامت بنانے والا مسجد سے باہر رہے اور معتکف مسجد کے اندر۔

حاجاتِ طبعیہ: پیشاب، پاخانہ و استنجا کی ضرورت کیلئے معتکف کو مسجد سے باہر نکلنا جائز ہے جسکے مسائل مندرجہ ذیل ہیں:
• پیشاب یا پاخانے کیلئے قریب ترین جگہ کا انتخاب کرنا چاہیئے۔
• اگر مسجد سے متصل بیت الخلاء بنا ہوا ہے اور اسے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے تو وہیں ضرورت پوری کرنی چاہیئے اور اگر ایسا نہیں ہے تو دور جاسکتا ہے، چاہے کچھ دور جانا پڑے۔
• اگر بیت الخلاء مشغول ہو تو انتظار کرنے میں کوئی حرج نہیں البتہ فارغ ہونے کے بعد ایک لمحہ بھی وہاں ٹھہرنا جائز نہیں۔
• قضاء حاجت کیلئے جاتے وقت یا واپسی پر کسی سے مختصر بات چیت کرنا جائز ہے، بشرطیکہ اس کیلئے ٹھہرنا نہ پڑے۔

Jokes of the day