صدقہ فطر کے احکام و مسائل

0
260

سیدنا ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانو ں کے غلام ،آزاد،مرد عورت ،بچے اور بوڑھے سب پر صدقہ فطر فرض کیا ہے ایک صاع (تقریبا اڑھائی کلو )کھجوروں سے اور ایک صاع جو سے( اور صاع گندم سے )اور اس کے متعلق حکم دیا ہے کہ یہ فطرانہ نماز عید کے لئے جانے سے پہلے ادا کر دیا جائے ۔”(بخاری:١٥٠٣،مسلم:٩٨٤)

عید سے ایک یا دو دن پہلے صدقہ فطر ادا کرنا صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے ثابت ہے ۔(بخاری:١٥١١)

صدقہ فطر میں جنس( گندم وغیرہ) دینی چاہئے یہ احادیث سے ثابت ہے عبداللہ بن احمد نے کہا کہ میں نے اپنے باپ امام احمد بن حنبل سے سنا ،آپ صدقہ فطر کی قیمت نکالنا مکروہ سمجھتے تھے اور فرماتے مجھے یہ ڈر ہے کہ اگر کوئی شخص قیمت دے گا تو اس کا صدقہ فطر ہی جائز نہیں ہو گا ”َ(مسائل عبداللہ بن احمد بن حنبل :٨٠٩)

امام احمد سے کہا گیا کہ:”لوگ کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ صدقہ فطر میں قیمت قبول کر لیتے تھے ”تو انھوں نے فرمایا :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان چھوڑ دیتے ہیں اور کہتے ہیں !فلاں یہ کہتا ہے !”(السنن والمبتدعات ص٢٠٦)

امام ابن تیمیہ نے کہا:”صدقہ فطر روز مرہ کی خوراک سے ادا کرنا چاہئے ”۔(مجموع الفتاوی:٢٥/٣٥۔٣٦)
بعض اہل علم نقدی سے بھی صدقہ فطر ادا کرنے کی اجازت دیتے ہیں واللہ اعلم بالصواب ۔