احسان کا بدلہ احسان

0
113

10 : سورة يونس آیت نمبر : 26

لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوا الۡحُسۡنٰی وَ زِیَادَۃٌ ؕ وَ لَا یَرۡہَقُ وُجُوۡہَہُمۡ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّۃٌ ؕ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۶﴾

جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے خوبی ہے اور مزید برآں بھی اور ان کے چہروں پر نہ سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت ، یہ لوگ جنت میں رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہاں جس نے نیک اعمال کئے اور بایمان رہا وہاں اسے بھلائیاں اور نیک بدلے ملیں گے ۔

﴿هَلْ جَزَآءُ الإِحْسَـنِ إِلاَّ الإِحْسَـنُ ﴾
احسان کا بدلہ احسان ہے ۔

﴿وَزِيَادَةٌ﴾
ایک ایک نیکی بڑھا چڑھا کر زیادہ ملے گی ایک کے بدلے سات سات سو تک ۔

جنت حور قصور وغیرہ وغیرہ آنکھوں کی طرح طرح کی ٹھنڈک ، دل کی لذت اور ساتھ ہی اللہ عزوجل کے چہرے کی زیارت یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کا لطف و رحم ہے بہت سے سلف خلف صحابہ وغیرہ سے مروی ہے کہ زیادہ سے مراد اللہ عزوجل کا دیدار ہے ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا:

«إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ نَادَى مُنَادٍ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللهِ مَوْعِدًا يُريدُ أَنْ يُنْجِزَكُمُوهُ فَيَقُولُونَ: وَمَا هُوَ؟ أَلَمْ يُثَقِّلْ مَوَازِينَنَا؟ أَلَمْ يُبَيِّضْ وُجُوهَنَا وَيُدْخِلْنَا الْجَنَّــةَ وَيُجِرْنَا مِنَ النَّارِ؟ قَالَ فَيَكْشِفُ لَهُمُ الْحِجَابَ، فَيَنْظُرُونَ إِلَيهِ، فَوَاللهِ مَا أَعْطَاهُمْ اللهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ، وَلَا أَقَرَّ لِأَعْيُنِهِم»

جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے اور اس وقت ایک منادی کرنے والا ندا کرے گا کہ اے جنتیو ! تم سے اللہ کا ایک وعدہ ہوا تھا ، اب وہ بھی پورا ہو نے کو ہے ۔ یہ کہیں گے الحمد اللہ ہمارے میزان بھاری ہوگئے ، ہمارے چہرے نورانی ہوگئے ، ہم جنت بمیں پہنچ گئے ، ہم جہنم سے دور ہوئے ، اب کیا چیز باقی ہے؟ اس وقت حجاب ہٹ جائے گا اور یہ اپنے پاک پرودگار کا دیدار کریں گے ۔ واللہ کسی چیز میں انہیں وہ لذت و سرور نہ حاصل ہوا ہوگا جو دیدار الٰہی میں ہوگا ۔
( مسلم وغیرہ ) اور حدیث میں کہ منادی کہے گا حسنیٰ سے مراد جنت تھی اور زیارت سے مراد دیدار الٰہی تھا ۔

ایک حدیث میں یہ فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی مروی ہے ۔

﴿وَلاَ يَرْهَقُ وُجُوهَهُمْ قَتَرٌ﴾
میدان محشر میں ان کے چہروں پر سیاہی نہ ہوگی۔

﴿وَلاَ ذِلَّةٌ﴾
نہ ذلت ہوگی ۔

جیسے کہ کافروں کے چہروں پر یہ دونوں چیزیں ہوں گی ۔ غرض ظاہر اور باطنی اہانت سے وہ دور ہوں گے ۔

﴿فَوَقَـهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَومِ وَلَقَّـهُمْ نَضْرَةً وَسُرُوراً ﴾
چنانچہ اللہ ایسے لوگوں کو اس دن کے شرسے بچالے گااورانہیں تازگی اور خوشی بخشے گا

چہرے پر نور دل راحتوں سے مسرور ۔

اللہ ہمیں بھی انہیں میں کرے آمین ۔

تفسیر ابن کثیر